بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی؛ امریکی سی آئی اے کے سابق افسر اور سیاسی و عسکری امور کے تجزیہ کار لیری جانسن نے کہا:
حصۂ دوئم:
• ٹرمپ کے رویئے میں تبدیلی ایران کے خلاف امریکی احتیاط میں اضافے اور بحران کے مزید خطرناک مرحلے میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کا اظہار ہے۔
* ایران کی جوہری صلاحیت اور زیر زمین تنصیبات کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل کے ابہام اور لاعلمی کا امتداد
• ایران کی حقیقی جوہری صلاحیت اور پوشیدہ بنیادی ڈھانچے کی وضاحت کرتے ہوئے مجھے کہنا چاہئے کہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور اسرائیل کی سب سے بڑی انٹیلیجنس غلطیوں میں سے ایک ایران کی زیر زمین تنصیبات کی گہرائی اور وسعت کے غلط تخمینے اور بے جا اندازے رہے ہیں۔
• تہران سنہ 2003ع میں عراق پر امریکی حملے کے بعد اس نتیجے پر پہنچایا کہ کہ ہو سکتا ہے کہ وہ خود اسی قسم کی جارحیت کا اگلا ہدف ہو۔ لہٰذا اس نے اسٹراٹیجک اثاثوں، فوجی مراکز اور حساس بنیادی ڈھانچے کو زمین کی گہرائیوں میں منتقل کرنے کے وسیع منصوبے پر کام شروع کیا۔
• میں امریکی انٹیلیجنس برادری میں اپنے تجربے کی بنا پر یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مغرب کبھی بھی ایران کے ان 'زیر زمین شہروں' اور گہری تنصیبات کی مکمل تصویر حاصل نہیں کر سکی ہے، اور اسی مسئلے نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی مقدار، مقام اور ایران کے جوہری پروگرام کی حقیقی صلاحیت کا کوئی درست جائزہ لینے کے کسی عمل کو ناممکن بنایا ہے۔
• کچھ رپورٹوں میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی اعلیٰ افزودگی والے یورینیم کے کافی ذخائر موجود ہیں، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ مغربی انٹیلیجنس ادارے قطعی طور پر نہیں جانتے کہ یہ ذخائر کہاں رکھے گئے ہیں اور کیا امریکی بنکر بسٹر بم بھی انہیں تباہ کرنے کے قابل ہیں یا نہیں!
• اسی انٹیلیجنس غیر یقینیت واشنگٹن کی ایران کی ممکنہ جوہری صلاحیت کے بارے میں تشویش کو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔
* اسرائیل اور امریکہ اب بھی ایران پر دباؤ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں لیکن ٹرمپ اخراجات سے پریشان ہے
• تنازعات میں شدت لانے یا ختم کرنے میں امریکہ اور اسرائیل کے کردار کے معاملے پر، مغربی کیمپ میں حکمت عملی کا خلا پایا جاتا ہے، حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ مجموعی مقصد اب بھی ایران کو روکنا اور دباؤ میں رکھنا ہے۔
• بعض مواقع پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایران کے لڑنے بھڑنے کے وقت اور طریقہ کار پر اختلاف رائے پیدا ہؤا ہے، اور ٹرمپ کے قریبی حلقوں، ـ بشمول مذاکرات کی طرف مائل افراد ـ نے جنگ کا پھیلاؤ روکنے کی کوشش کی ہے۔
• یہ اختلافات ـ ایران کے بارے میں بنیادی رویئے میں تبدیلی کے بجائے، جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات، امریکی افواج اور اڈوں کی کمزوری اور زدپذیری، اور ایک وسیع تر تنازعے کے ـ معاشی اور سیاسی نتائج کے خدشے کی پیداوار ہیں۔
• اسرائیل اب بھی ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، لیکن واشنگٹن مختلف مواقع پر اسرائیل کی حمایت اور ایک پرخطر علاقائی جنگ میں داخل ہونے سے بچنے کے درمیان توازن قائم کرنے پر مجبور ہؤا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: رضا حسینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ